لکھنؤ4نومبر ( آئی این ایس انڈیا ؍ایس او نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ نے ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لیے سال 1992 جیسی ہی تحریک شروع کرنے کے آر ایس ایس کے ارادے کو ملک کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ مندر کو لے کر اچانک تیز ہوئی سرگرمیاں مکمل طور پرسیاسی ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے سیکرٹری جنرل مولانا ولی رحمانی نے رام مندر کی تعمیر کی مانگ کو لے ہندووادی تنظیموں کی اچانک تیز کی گئی سرگرمیوں کے بارے میں کہا کہ جہاں تک مندر کی تعمیر کو لے کر نام نہاد ہندووادی تنظیموں میں بے چینی کا سوال ہے، تو صاف ظاہر ہے کہ یہ سیاسی ہے۔ آئندہ لوک سبھا انتخابات کو سامنے رکھ کر یہ دباؤ بنایا جا رہا ہے۔ لیکن وہ تنظیم دراصل کیا کریں گے، ابھی تک اس کا صحیح اندازہ نہیں ہے۔مندر کی تعمیر کے لیے سال 1992 جیسی تحریک چھیڑنے کی آر ایس ایس کے اشارے کے بارے میں مولانا ولی رحمانی نے کہا کہ آ رایس ایس اگر تحریک شروع کرتا ہے تو یہ بہت خطرناک ہو گا۔ اس سے ملک میں افراتفری کا ماحول پیدا ہو گا۔ اس خدشہ کی وجہ پوچھے جانے پر انہوں نے بتایا کہ سال 1992 میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت اتنی زیادہ نہیں تھی۔ حالیہ سالوں میں دونوں کے درمیان خلیج بہت گہری ہو گئی ہے۔
وشو ہندو پریشدسمیت تمام ہندووادی تنظیموں اور سادھو سنتوں کے ذریعے مندر کی تعمیر کے لیے آرڈیننس لانے یا قانون بنانے کو لے کر حکومت پر دباؤ بنائے جانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر مولانا رحمانی نے کہا کہ قانونی ماہرین کے مطابق اس مسئلے پر ابھی کوئی آرڈیننس یاپارلیمنٹ کا قانون نہیں آ سکتا۔ اب حکومت کیا کرے گی اور اس کے کیا نتائج ہوں گے، یہ نہیں کہا جا سکتا۔مولانا ولی رحمانی نے یہ بھی کہاکہ حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے جسٹس جے چیلمیشور نے چند دن پہلے ممبئی میں ایک پروگرام میں کہا تھا کہ مندر کی تعمیر کو لے کرآرڈیننس لانا یا پارلیمنٹ سے قانون منظور کرایا جانا ناممکن نہیں ہے۔ بورڈ کا شروع سے ہی واضح نظریہ ہے کہ باہمی رضامندی سے مسئلہ حل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد وہ ایودھیا تنازعہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی تسلیم کرے گا۔
دریں اثنا ملک میں مسلمانوں کی اہم سماجی تنظیم مانے جانے والے جمعیۃ علماء ہند کے یوپی شاخ کے صدر مولانا اشہد رشیدی نے کہا کہ ایودھیا معاملہ کو لے کر تیز ہوئی سرگرمیوں پر ان کا ایک ہی جواب ہے کہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے سب کو صبر سے کام لیتے ہوئے عدالت کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے۔عدلیہ کا جو بھی فیصلہ ہو، اسے قبول کرنا چاہیے۔ ملک میں امن اور سلامتی اسی طرح رہے گی۔ ہماری اپیل ہے کہ اس معاملے میں جذبات سے کام نہ لے کر حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے کام کیا جائے۔